بنگلورو۔17/اکتوبر(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے آج یہ اعلان کیا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے ودھان سودھا سے ہبال فلائی اوور تک اسٹیل برڈج کی تعمیر کے جس منصوبے کا اعلان کیاگیا ہے اسے ہر حال میں مکمل کیاجائے گا۔مٹھی بھر لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے اس منصوبے کو واپس لینے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ آج اپنی کابینہ کے وزراء جناب روشن بیگ، کے جے جارج، کرشنا بائرے گوڈا، ایم آر سیتا رام اور دیگر کے ہمراہ شہر سے ایرپورٹ پہنچنے کیلئے متبادل راستوں کا معائنہ کرنے کے بعد اپنے ہوم آفس کرشنا میں ایک پرہجوم اخباری کانفرنس سے مخاطب ہوکر سدرامیا نے کہاکہ حکومت کی طرف سے اسٹیل برڈج کی تعمیر کا جو منصوبہ تیار کیاگیا ہے وہ نیا نہیں،بلکہ اس کا اعلان انہوں نے اپنی بجٹ تقریر میں ہی کردیا تھا۔ عوام کو گمراہ کرنے کیلئے اپوزیشن پارٹیاں اس منصوبہ کے متعلق غلط افواہ اڑا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی لاگت کا تعین باقاعدہ ٹنڈر کے مطابق کیاگیاہے۔ایل اینڈ ٹی نے سب سے کم ٹنڈر دیاتھا، اور باضابطہ شفافیت کے ساتھ اسے اس برڈج کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپوزیشن پارٹیوں پر الزام لگایا کہ وہ شہر کی ترقی کیلئے حکومت کے منصوبوں سے حسد کرتی ہیں۔ اسی لئے اس کی مخالفت کررہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ اس پراجکٹ کے متعلق حکومت نے جو سروے کیا ہے اس میں 73 فیصد لوگوں نے اس پراجکٹ کی حمایت کی ہے۔ عوام کی طرف سے اس زبردست حمایت کے نتیجہ میں ہی اس پراجکٹ کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ سدرامیا نے بتایاکہ اس برڈج کی تعمیر کے متعلق تفصیلی پراجکٹ رپورٹ بی ڈی اے کی ویب سائٹ پر شائع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس پراجکٹ میں شفافیت سے متعلق کسی شبہ کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے خود اس پراجکٹ پر دو میٹنگیں کیں، چیف سکریٹری نے چار میٹنگیں طلب کیں اور تفصیل سے اس پر بات چیت کی۔ 2015 میں اس پراجکٹ کی تفصیلی رپورٹ تیار کی گئی تھی، تاہم اسٹیل پر 14 فیصد اضافی قدر ٹیکس کے نتیجہ میں پراجکٹ کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ایرپورٹ تک پہنچنے کیلئے متبادل راستوں کے معائنہ کے بارے میں بتایا کہ ایرپورٹ کو میٹرو سرویس شروع کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جارہاہے۔سدرامیا نے کہاکہ ”نما بنگلور فاؤنڈیشن“ نے اس پراجکٹ پر روک لگانے کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم عدالت نے اس پراجکٹ کو آگے بڑھانے کیلئے حکومت کو عبوری راحت دی ہے۔ اس پراجکٹ کیلئے درختوں کی کٹائی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ بعض اوقات ترقیاتی منصوبوں کیلئے اس طرح درختوں کی کٹائی ناگزیر ہوتی ہے، حکومت اس معاملے میں بے بس ہے۔ ہبال کے قریب اسٹیم مال کے پاس اسکائی واک کی تعمیر کے بارے میں سدرامیا نے کہاکہ اس اسکائی واک کیلئے زمین اکوائر کرنے میں پریشانی ہوئی ہے، عنقریب اس معاملے کو سلجھالیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ حالانکہ ہبال کے بعد سے بنگلور انٹرنیشنل ایرپورٹ کیلئے سگنل فری سڑک تعمیر کی گئی ہے، لیکن اس کے بعد بھی ٹریفک اژدہام کم نہیں ہورہا ہے۔اسی لئے ہنور، کنور، میلونہلی، باگلور روڈ، سے گزرکر ایرپورٹ پہنچنے والی سڑک کو تیار کرنے پر غور کیاجارہاہے۔ ہنور روڈ میں جو فلائی اوور ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے وہ کام آگے بڑھایا جائے گا۔ اسی طرح ٹیانری روڈ، تھنی سندرا، ناگوار روڈ سے ایرپورٹ کی گاڑیاں روانہ کرنے پر بھی غور کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 21/ کروڑ روپیوں کی لاگت پر اس سڑک پر گریڈ سپریٹروں کی تعمیر کا منصوبہ بنایاگیاہے۔ہینور،باگلور، میلونہلی سڑک کو بھی بہتر بنانے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ بلاری اور ٹمکور روڈ کو جوڑنے کیلئے بھی قدم اٹھائے گئے ہیں، ساتھ ہی وائٹ فیلڈ، کے آر پورم سڑکوں کو بہتر بنانے کیلئے بھی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔